سوختہ سامان
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - بے سرو سامان، خستہ دل و خستہ جان، مفلوک الحال۔ "میں بھی ان سوختہ سامانوں میں سے ایک تھا۔" ( ١٩٨٧ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ١٦٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ مرکبِ توصیفی ہے۔ فارسی سے اسم صفت 'سوختہ' کے ساتھ فارسی اسم 'سامان' بطور موصوف ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٨٥١ء کو "کلیاتِ مومن" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بے سرو سامان، خستہ دل و خستہ جان، مفلوک الحال۔ "میں بھی ان سوختہ سامانوں میں سے ایک تھا۔" ( ١٩٨٧ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ١٦٣ )